Skip to main content
تحریر۔ سلمان نسیم شاد

رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور اللہ پاک کی بیشمار نعمتوں والا مہینہ ہے. یہ مقدس مہینہ ہم سب کو صبر کا درس دیتا ہے کہ کس طرح ہم صبر کرکے اور اپنی نفسانی خواہشات پہ قابو پا کر اللہ پاک کی خوشنودی حاصل کرسکتے ہیں یعنی ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں یہ اللہ پاک کا قرب اور خوشنودی حاصل کرنے کا مہینہ ہے. ویسے تو ہم پورا سال عبادات کرتے ہی ہیں لیکن اس مبارک ماہ میں عبادت کا ثواب کئی گناہ بڑھ جاتا ہے.

اگر آپ آج سے  90 کی دہائی یا اس سے پہلے کا جائزہ لیں تو رمضان المبارک یا عید  کی جو رونقیں ہا کرتی تھیں جو روائیتیں تھیں وہ یکسر تبدیل ہوکر رہ گئیں ہیں۔  90 کی دہائی سے پہلے ہمارے بچپن میں ہم رات کو سوتے وقت خصوصا اپنے والدین سے التجا کرکے سویا کرتے تھے کہ ہمیں سحری پر اٹھا دیجئے گا۔ 

اور جب بعض اوقات ہمارے والدین ہمیں سحری پر نہیں اٹھاتے تو ہم صبح اٹھ کر ان سے کافی دیر تک ناراض ہو جایا کرتے تھے۔ اس وقت جب ہم کبھی سحری پر اٹھتے تھے تو پاکستان ٹیلی ویزن کی اسپیشل ٹرانسمیشن دو بجے رات شروع ہوا کرتی تھی جو اس دور میں ہمارے لئے بہت اہمیت رکھتی تھی اور اس نشریات کو دیکھنے کا لطف ہی الگ تھا۔ بصیرت سے  نشریات کا آغاز ہوا کرتا تھا اور پھر صراط مستقیم۔  فہم القران جیسے پروگرام صابری برادرز کی مشہور قوالیاں خصوصا تاجدار حرم ایک الگ ہی فضا قائم دیا کرتی تھی۔ مجھے یاد ہے ڈاکٹر غلام مرتضی ملک مرحوم صراط مستقیم کہ نام سے سحری پر روزانہ آدھے گھنٹے کا پروگرام پیش کیا کرتے تھے۔ اور سیرت نبی بیان کیا کرتے تھے۔ ان کا انداز بیاں ان کا دھیما لہجہ  دل و دماغ میں رس گھول دیا کرتا تھا۔ اس وقت شیعہ، سنی، دیوبندی و اہلحدیث سب وہ پروگرام سنا کرتے تھے۔ کوئی اختلاف رائے نہیں ہوا کرتا تھا۔ کسی کو اس سے غرض نہیں تھی کہ ڈاکٹر صاحب کس مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ مقابلہ حسن قرات اور مقابلہ نعت خوانی بھی روازنہ کی بنیاد پر ہوا کرتے تھے۔ جس میں شرکت کرکے کئی ثناء خواں ملک کہ نامور ثناء خواں بن گئے۔ پورے پاکستان سے محافل شبینہ براہ راست پیش کی جاتی تھیں جو ایک سماء باندھ دیا کرتی تھیں۔

  مگر سن 2000 کہ بعد جب نجی چینلز وجود میں آئے تو رمضان المبارک کو صرف ایک فیسٹول بنادیا گیا۔ بے ہنگم انداز میں کامیڈین نما کمپیئر وجود میں آگئے۔ عوام کو فہم القران اور صراط مستقیم سے ہٹاکر مختلف قسم کہ بے ہنگم گیم شوز میں لگادیا گیا۔  لوگ رمضان المبارک کی برکتیں سمیٹنے کہ بجائے Q موبائلز اور موٹر بائیکوں کو سمیٹنے کی جستجو میں لگ گئے۔ پھر اس سے بڑھ کر ان شوز کی میزبانی ایسے جوکروں کو دے دی جو سارا سال ناچ گانا یا دوسروں پر کیچڑ اچھالتے رہے ہیں۔ اس بے ہنگم نشریات کا سہرا ایک خود ساختہ مزہبی اسکالر کہ سر جاتا ہے جس نے رمضان المبارک کہ تقدس کو بری طرح پامال کیا اور اس کہ بعد دیکھا دیکھی کئی اور گلوکار   اداکار رمضان نشریات کہ دائی بن گئے۔  جنھوں نے اس ماہ مبارک کا تقدس بری طرح پامال کرا۔  حد تو یہ سحر و افطار کہ اوقات میں اپنی ریٹینگ بٹھانے کے لئے یہ خود ساختہ مزہبی اسکالرز مختلف مکاتب فکر کہ علماء اکرام کو لڑوا رہے ہوتے ہیں۔ اس ہی بنیاد پر پچھلے سال اسلام آباد ہائکورٹ کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ رمضان ٹرانسمیشن میں سرکس لگتے رہے  بیہودگی ختم نہ ہوئی تو عدالت ان شوز پر پابندی لگادی جائے گی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا تھا ہم کوئی ایسا حکم جاری نہیں کرسکتے جس پر عمل درآمد نہ کرواسکوں،
 مگر مضان نشریات کے نام پر اسلام کے ساتھ تمسخر برداشت نہیں کیا جائے گا، پیمرا اور پی بی اے احکامات پر فوری عملدرآمد کیلئے کام شروع کریں۔

مگر افسوس پیمرا نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا رمضان نشریات کہ نام پر سرکس نما ٹرانسمیشن جاری رہی


 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
تمہارے پاس ماہ رمضان آیا۔ یہ مبارک مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کیے ہیں۔ اس میں آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور بڑے شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں۔ اس (مہینہ) میں اﷲ تعالیٰ کی ایک ایسی رات (بھی) ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو اس کے ثواب سے محروم ہوگیا سو وہ محروم ہو گیا۔


  مگر ایسے میں کچھ شیاطین مختلف ٹی چینلز پر بیٹھ کر تفرقہ پھیلا رہے ہوتے ہیں۔ ارباب و اختیار کو فوری سدباب کرتے ہوئے ایسے خود ساختہ مزہبی اسکالرز کو رمضان المبارک کی بابرکت نشریات سے دور رکھنا چاہیئے۔

Comments